سال 2020 میں پارلیمان کے پہلے اجلاس میں ’جان اللہ کو دینی ہے‘ کی گونج

146
سال 2020 میں پارلیمان کے پہلے اجلاس میں ’جان اللہ کو دینی ہے‘ کی گونج

 

پاکستان میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کافی عرصے کے بعد طلب کیے جانے کی وجہ سے حزب مخالف کی جماعتیں بظاہر کافی غصے میں نظر آئیں۔

بدھ کے روز ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران بھی حزب مخالف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان بالخصوص سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے سرحدی امور اور نارکوٹکس کنٹرول کے وزیر ملکت شہر یار آفریدی کو نشانے پر رکھا۔

وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن کی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے رکن عبدالشکور نے سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں، جو اب صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بن چکے ہیں، ترقیاتی کاموں سے متعلق سوال کیا۔

اس پر شہر یار آفریدی نے ایوان کو بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کے حکم پر ان علاقوں میں اربوں روپے کے ترقیاتی کام کروائے گئے ہیں۔ لیکن اس جواب کو سننے کے بعد ایوان میں ’جھوٹ ہے جھوٹ‘ کے نعرے لگنا شروع ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیے

’سپیکر سے پروڈکشن آرڈرز کی بھیک نہیں مانگیں گے‘

قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومت کی ’مفاہمت کا دن‘

فواد چوہدری کس ’نیو ڈیل‘ کی بات کر رہے ہیں؟

آئینی ترامیم میں عدمِ تعاون، آئینی یا انتظامی بحران؟

PTV Parliament

 


شاہنواز رانجھا نے طنز کرتے ہوئے کہا ’جان اللہ کو دینی ہے تو کم از کم ترقیاتی بجٹ کے اعداد و شمار تو ٹھیک بتائیں‘

عبدالشکور نے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی ان کے ساتھ چلیں ’اگر وہاں پر ایک سڑک بھی موجودہ حکومت نے تعمیر کی ہو تو وہ ہر سزا بھُگتنے کو تیار ہیں۔

شہر یار آفریدی نے کہا کہ سابقہ فاٹا کے ضم شدہ علاقوں کی ترقی کے لیے 162 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ان علاقوں کی ترقی کے لیے مزید 10 ارب روپے رکھے ہیں۔

یہ جواب پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی شاہنواز رانجھا کو مطمئن نہ کر سکا۔ انھوں نے ضمنی سوال کرتے ہوئے شہر یار آفریدی پر طنز کیا اور کہا کہ ’جان اللہ کو دینی ہے تو کم از کم ترقیاتی بجٹ کے اعداد و شمار تو ٹھیک بتائیں۔‘

اس فقرے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے ڈیسک بجانا شروع کر دیے جس پر شہر یار آفریدی غصے میں آگئے اور جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ ’جان سب نے اللہ کو دینی ہے۔ لیکن کوئی حسین کی موت مرتا ہے اور کوئی شمر اور یزید کی موت مرتا ہے۔‘

اُنھوں نے اپوزیشن بینچز کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں نے بُت بنائے ہوئے ہیں جن کی وہ پوجا کرتے ہیں۔ اس پر ڈپٹی سپیکر نے مداخلت کی اور وزیر مملکت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف پوچھے گئے سوال کا جواب دیں۔

اس پر شہریار آفریدی مزید سیخ پا ہوگئے۔ وہ کچھ مزید کہنا چاہتے تھے لیکن مغرب کی آذان پر قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی میں وقفہ ہوگیا۔

شہریار آفریدی کا یہ فقرہ ’میں نے جان اللہ کو دینی ہے‘ مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر کافی تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔ جولائی 2019 میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات کے مقدمے کے حوالے سے پریس کانفرنس میں وہ اے این ایف کی اس کارروائی کو حقائق پر مبنی قرار دینے کے لیے قسمیں کھاتے رہے اور ’میں نے جان اللہ کو دینی ہے‘ دہراتے رہے۔

PTV Parliament

 


’ہر کام اللہ پر مت چھوڑ دیا کریں، کوئی کام خود بھی کرلیا کریں‘

اجلاس کے دوران پاکستان مسلم لیگ نواز کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مختصر نوٹس پر قومی اسمبلی کا اجلاس کیوں طلب کیا گیا ہے جس پر قاسم سوری نے جواب دیا کہ انشا اللہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔

خواجہ آصف نے جواب دیا کہ ’ہر کام اللہ پر مت چھوڑ دیا کریں، کوئی کام خود بھی کرلیا کریں۔‘ اُنھوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں یہ بات عام ہے کہ اگر کوئی کام نہ کرنا ہو تو انشا اللہ کہہ دیں۔

تحریک انصاف کا لہجہ بدلا ہوا؟

سینیٹ کے اجلاس میں بھی حزب مخالف کی جماعتوں اور بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

شیری رحمان سینیٹ کا اجلاس تاخیر سے طلب کیے جانے کی وجہ سے کافی غصے میں تھیں۔ اُنھوں نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جان بوجھ کر اس عہدے کی بے توقیری کی۔

اُنھوں نے کسی ادارے کا نام لیے بغیر کہا کہ ’سلیکٹرز‘ کو بھی معلوم ہو گیا ہے کہ جن لوگوں سے پارلیمان نہیں چل رہا وہ ملک کیسے چلائیں گے۔

شیری رحمان نے اپنی تقریر میں یہاں تک کہہ دیا کہ ملک پر نالائقوں کی نہیں بلکہ ’سٹوپڈ‘ کی حکومت ہے۔

سینیٹ کے چیئرمین نے یہ الفاظ کارروائی سے حذف کروائے تو پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر نے اس پر اعتراص کیا اور کہا کہ یہ غیر پارلیمانی لفظ نہیں ہے اور انڈیا کی لوک سبھا میں بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔

شیری رحمان کی طرف سے ایسے ادا کیے گئے جملوں کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کے متعدد سینیٹر خاموش رہے۔ شاید اس کی وجہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع اور نیب کے ترمیمی آرڈیننس میں قانون سازی کے لیے حزب مخالف کی جماعتوں سے تعاون درکار ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چوہدری کا لہجہ بھی بدلا ہوا تھا اور وہ ماضی میں اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت کو ’لٹیرے اور چور ڈاکو‘ کے القاب سے پکارتے تھے، اب وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قانون سازی کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کی بات کرتے نظر آئے۔

Source link

Credits BBC Urdu