انڈین قیدیوں کی رہائی کا معاملہ: ’فوجی عدالت سے سزا یافتہ پانچ قیدیوں کو سزا مکمل ہونے پر واپس انڈیا بھیج دیا گیا‘

28


  • شہزاد ملک
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستانی حکام نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ ان پانچ انڈین قیدیوں کو رہا کر کے واپس انڈیا بھیج دیا گیا ہے جنھوں نے فوجی عدالت سے ملنے والی سزا پوری کر لی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پاکستان میں انڈین ہائی کمیشن کی طرف سے قیدیوں کی رہائی سے متعلق درخواست کی سماعت کی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے عدالت کو بتایا کہ وزارت داخلہ کی ہدایت پر 26 اکتوبر کو ان پانچ قیدیوں کو رہا کر دیا گیا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ رہائی کے بعد ان افراد کو واہگہ بارڈر کے ذریعے انڈیا بھی بھیج دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ انڈین حکام نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایسے چار انڈین شہریوں کی رہائی کے لیے درخواست دائر کی تھی جنھیں پاکستان میں آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزائیں دی گئی تھیں اور وہ یہ سزا پوری کر چکے ہیں۔

انڈین ہائی کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جن افراد کو انڈیا واپس بھیجا گیا ہے ان میں سے ایک شخص شمس الدین، جس کی رہائی کے بارے میں گذشتہ برس پٹیشن دائر کی گئی تھی، اپنی سزا پوری ہونے کے باوجود واپس نہیں جانا چاہتے تھے لیکن ان کو ڈی پورٹ کر دیا گیا۔

شمس الدین کے علاوہ جن باقی چار قیدیوں کو انڈیا واپس بھیجا گیا ہے ان میں برجو، ویگوان سنگھ، ستیش بھاگ اور سونو سنگھ شامل ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق ان انڈین قیدیوں کو اپنی سزا پوری کیے ہوئے چار سے پانچ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کچھ قیدیوں کا معاملہ ریویو بورڈ کے سامنے ہے جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب سزا مکمل ہو گئی ہے تو درمیان میں ریویو بورڈ کہاں سے آ گیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اگر کوئی مجرم اپنی سزا پوری کرچکا ہو تو اس کو قید میں رکھنا خلاف قانون ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر باقی تین انڈین قیدیوں نے اپنی سزا مکمل کرلی ہے تو ان کو واپس بھیج دیں جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وہ باقی قیدیوں سے متعلق وزارت داخلہ سے ہدایات لیکر عدالت کو آگاہ کریں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا کی جانب سے ماہی گیروں اور غلطی سے سرحد عبور کرنے والے افراد کی گرفتاریاں عام معمول رہا ہے اور ایسے افراد سزائیں مکمل ہونے کے بعد بھی اس وقت تک رہائی حاصل نہیں کرتے جب تک دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات بہتر ہوں اور جذبہ خیر سگالی کے اظہار کے طور پر انھیں آزادی کا پروانہ نہیں مل جاتا۔

ان درخواستوں کی سماعت پانچ نومبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔



Source link

Credits BBC Urdu