قازقستان: حکام نے ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے بورات کے مشہور فقرے ’بہت اچھا‘ کو اپنا لیا

122


،تصویر کا کیپشن

بورات کی پہلی فلم قازقستان میں غم و غصے کا باعث بنی تھی اور حکام نے اس پر پابندی بھی عائد کی تھی

قازقستان کے محکمہ سیاحت نے مشہور کردار بورات کے دلچسپ اور معروف فقرے ’بہت اچھا‘ کو اپنی نئی اشتہاری مہم کا حصہ بنایا ہے۔

بورات نامی کردار درحقیقت قازقستان سے تعلق رکھنے والے ایک افسانوی صحافی کا ہے اور یہ کردار بار بار اپنا مشہور جملہ ’بہت اچھا‘ استعمال کرنے کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے۔

بورات کی پہلی فلم قازقستان میں غم و غصے کا باعث بنی تھی، اور حکام نے اس کی ہدایتکار ساشا بیرن کوہن پر مقدمہ چلانے کی دھمکی بھی دی تھی۔

لیکن اب ملک کے سیاحتی بورڈ نے بورات کو ایک بہترین مارکیٹنگ ٹول کے طور پر قبول کر لیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب بورات کی دوسری فلم حال ہی میں ریلیز ہوئی ہے۔

سیاحتی بورڈ نے متعدد مختصر دورانیے کے اشتہارات جاری کیے ہیں جو ملک کے طول و عرض میں پھیلے خوبصورت مناظر اور ثقافت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس کے بعد ویڈیو میں موجود لوگ بورات کا مشہور فقرہ ’بہت اچھا‘ استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

محکمہ سیاحت کے نائب چیئرمین کییرت سدواکاسوف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’قازقستان قدرتی خوبصورتی کا مظہر ہے۔ یہاں کا کھانا بہت لذیذ ہے۔ اور بورات کے لطیفوں کے برعکس یہاں کے لوگ دنیا کے سب سے اچھے لوگ ہیں۔‘

سیاحتی بورڈ کو ڈینس کین اور ان کے دوست یرمیک امتیاسسوف کے ذریعے بورات کا مشہور فقرہ استعمال کرنے پر راضی کیا گیا۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق انھوں نے اس خیال کو پیش کیا اور اشتہارات تیار کیے۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل مثبت رہا ہے اور بہت سے لوگوں نے یہ کہا ہے کہ ان اشتہارات نے فلم کو فائدہ پہنچایا ہے اور ایک مثبت پیغام بھیجا ہے۔

ایک صارف کا کہنا تھا ’یہ بہت اچھا ہے۔ یہ مزاح نگار کی تخلیق کردہ تشہیر کو مثبت پیغام دینے کا زبردست طریقہ ہے۔‘

قازقستان، امریکن ایسوسی ایشن نے اس فلم کو ’نسل پرستی ، ثقافتی تخصیص اور غیر ملکیوں سے نفرت‘ کو فروغ دینے پر تنقید کی تھی۔

ایمیزون کو بھیجے گئے خط میں اس گروپ نے پوچھا تھا کہ ’تضحیک کے لیے ہماری قوم ایسا کھیل کیوں کھیل رہی ہے۔‘

فلم کا ٹریلر ریلیز ہونے کے بعد قازقستان میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے ایک آن لائن پٹیشن پر دستخط کیے تھے اور اس فلم کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

درخواست میں کہا گیا تھا ’اس میں قازقستان اور قازق قوم کے وقار کی مکمل بے حرمتی اور تذلیل کی گئی ہے۔‘ سوشل میڈیا پر موجود دیگر افراد نے اس فلم کو ’بیوقوف امریکی مزاح‘ قرار دیا۔

جب سنہ 2006 میں پہلی بورات فلم ریلیز ہوئی تھی تو حکام نے اس فلم پر پابندی عائد کر دی تھی، ڈی وی ڈی پر بھی اس کی نمائش پر پابندی عائد تھی اور شہریوں کو اس کی ویب سائٹ دیکھنے سے بھی روک دیا گیا تھا۔ عہدیداروں کا ماننا تھا کہ اس فلم نے قازقستان کو نسل پرستانہ، جنس پسند اور قدیم ملک کے طور پر پیش کیا ہے۔

فلم میں بورات نے محرم عورتوں کا ریپ کرنے اور عصمت دری کے بارے میں فخریہ انداز میں بات کی۔ انھوں نے مذاق میں یہ بھی کہا کہ سابقہ ​​سوویت قوم کے پاس دنیا کی سب سے صاف ستھری طوائفیں تھیں۔

یہ فلم رومانیہ میں بھی غم و غصے کا باعث بنی جہاں ایک پورے گاؤں نے کہا کہ فلم کے ذریعے ان کی تذلیل کی گئی ہے۔

اس گاؤں کو بورات کے گھر کے پس منظر کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ رہائشیوں کا کہنا تھا کہ انھیں بتایا گیا تھا کہ یہ فلم ایک دستاویزی فلم بننے والی ہے لیکن اس کی بجائے انھیں پسماندہ افراد اور مجرموں کے طور پر پیش کیا گیا۔

تاہم سالوں بعد قازقستان کی حکومت نے ملک میں سیاحت کو فروغ دینے پر ساشا بیرن کوہن کا شکریہ ادا کیا۔

سنہ 2012 میں اس وقت کے وزیر خارجہ یارزان کازیخانو نے کہا تھا کہ وہ ’سیاحوں کو راغب کرنے میں مدد‘ کرنے کے لیے بورات کے ’شکر گزار‘ ہیں، انھوں نے مزید یہ بھی کہا تھا کہ ملک میں آنے کے لیے 10 گنا زیادہ لوگ ویزا کے لیے درخواستیں دے رہے ہیں۔



Source link

Credits BBC Urdu